پشاور: معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے پشاور میں ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم دی رپورٹر لینز کا افتتاح کیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی اقدامات اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت کو سب سے بڑا چیلنج امن و امان کی صورتحال کا سامنا ہے اور اس سلسلے میں امن جرگے کے دوسرے مرحلے پر کام شروع ہو چکا ہے جبکہ جرگے کے لیے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) تیار کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جرگہ پختون ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے اور صوبائی حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔
معاون خصوصی نے مزید کہا کہ صوبے میں قیام امن کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیںاور امن جرگے کا قیام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے میں بہتر گورننس پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔
شفیع جان نے ڈیجیٹل میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مؤثر ذریعہ ابلاغ بن چکا ہے اور یہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت شفاف، بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز عوامی مسائل کی مؤثر نشاندہی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پولو فیسٹیول 2026 کا شاندار اختتام، گلگت بلتستان نے فائنل میں میدان مار لیا
معاون خصوصی نے مزید کہا کہ مثبت، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شفیع جان نے مفکورہ ریسرچ سنٹر کا دورہ بھی کیا اور معائنہ کیا، جہاں مادری زبانوں، ثقافتی سرگرمیوں اور آرٹ کے فروغ میں سنٹر کے اہم کردار کو سراہا۔
انہوں نے لاہور کے حالیہ دورے کے دوران نام نہاد صحافیوں کی جانب سے کیے گئے نامناسب اور غیر سنجیدہ سوالات پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں دیگر صوبوں کے برعکس تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی حاصل ہے۔





