مصطفیٰ محمود کی صدارت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گیس سیکٹر کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ گیس کے گردشی قرض کا موجودہ فلو صفر ہےتاہم مجموعی گردشی قرض تقریباً 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس میں 1700 ارب روپے صرف سود کی مد میں شامل ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی سطح پر ایل این جی کارگو کی قیمت 30 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، لیکن قطر نے معاہدے کے تحت پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی جاری رکھی، جسے پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر گردشی قرض میں اضافہ جاری رہتا تو گیس کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہوتا تاہم رواں سال گیس کے نرخ برقرار رہیں گے۔
وزیرِ پیٹرولیم نے پاور سیکٹر میں گیس کی طلب میں اتار چڑھاؤ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صبح کے وقت پاور سیکٹر 800 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتا ہے، جو دوپہر میں 400 ایم ایم سی ایف ڈی تک کم ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق جنوری میں پاور سیکٹر کی گیس طلب 200 ایم ایم سی ایف ڈی تھی جبکہ اب یہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ گئی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ انڈس بیسن میں ترک پیٹرولیم سمندر میں ڈرلنگ کرے گی، جس میں پاکستان کی کمپنیاں جوائنٹ وینچر کے طور پر شامل ہوں گی اور سرمایہ فراہم کریں گی۔
سوئی سدرن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سردیوں کے دوران گیس کی طلب دوگنی ہو جاتی ہے۔ گرمیوں میں بلوچستان میں طلب تقریباً 70 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ سردیوں میں یہ 155 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گیس سیکٹر میں سالانہ نقصان 12 ارب روپے ہے، اور جھل مگسی کنواں کے ڈراپ ہونے کی وجہ سے بھی قلت پیدا ہوئی ہے۔سوئی سدرن نے گیس کے نقصانات کو 60 فیصد کم کر دیا ہے اور کوشش ہے کہ نقصانات کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لے آئے جائیں۔





