صوبہ سلگ رہا ہے، سہیل آفریدی کو پنجاب اور سندھ کی فکر لاحق ہے، امیر حیدر ہوتی

مردان: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے مردان میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ خیبر پختونخوا بدامنی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ صوبے سے باہر پنجاب اور سندھ فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو دیگر صوبوں میں احتجاج کرنے کی بجائے اپنے صوبے میں امن و امان کی بحالی پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پنجاب میں پرویز الٰہی پہلے ہی موجود ہیں تو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو وہاں احتجاج کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی ہر احتجاجی تحریک کا بوجھ پشتونوں پر کیوں ڈالا جاتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

انہوں نے سیاسی رویوں پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک صفحے پر آنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کا کراچی دورہ! کب جائینگے، کن سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کرینگے؟ سیاسی سرگرمیوں کا شیڈول جاری

امیر حیدر خان ہوتی نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکومت کی ناکامی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امن، روزگار اور ترقی کے تمام دعوے آج بھی ادھورے ہیں، بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کو مزید تجربات نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے جو خیبر پختونخوا کو امن اور استحکام کی راہ پر گامزن کر سکے۔

Scroll to Top