واشنگٹن: انڈیا کی مشہور صحافی سہاسنی حیدر نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے امریکی لابنگ فرم کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ سے آپریشن سندور کے دن 10 مئی کو جنگ بندی کے سلسلے میں سفارشات کی درخواست کی۔
دستاویزات کے مطابق بھارتی سفارتخانہ نے وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز، امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گرئیر اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکی گل سے رابطے کیے۔
فائلنگ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارتی اہلکاروں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، نائب نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور سفیر کے لیے ملاقاتیں طے کرنے کی درخواست کی، جبکہ میڈیا کور اور مودی کے ٹوئٹس کے پروموشن کے لیے بھی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کی گئیں۔
اگرچہ دستاویزات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ رابطے جنگ بندی سے پہلے ہوئے یا بعد میں، لیکن 10 مئی کے دن یہ قریبی رابطے بھارتی حکومت کی جانب سے آپریشن سندور کے دوران ٹرمپ انتظامیہ سے فوری مداخلت اور جنگ بندی کی درخواست کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
سہاسنی حیدرکے مطابق یہ دستاویزات اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ بھارتی حکومت نے تنازع کے دوران عالمی تعلقات اور سیاسی دباؤ کے ذریعے جنگ بندی کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں : آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارتی آرمی چیف دوبارہ بڑھکیں مارنے لگے
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی بھارتی آرمی چیف دوبارہ پاکستان کے خلاف بڑھکیں مارنے لگیں تھے، آپریشن سندور کو صرف ٹریلرقرار دے دیا تھا۔
بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف زبانی بڑھکیں مارنے لگائے تھے اور دعویٰ کیا کہ آپریشن سندور ایک مختصر ٹرائل تھا اور اصل کارروائی ابھی باقی ہے۔
چانکیا ڈیفنس ڈائیلاگ کے دوران جنرل دویدی نے کہا کہ آپریشن سندور 1.0 محض 88 گھنٹے کا ٹریلر تھا، اب فلم شروع ہوگی اور سب دیکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بھارت پوری طرح تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو سبق سکھانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔
پاکستانی فضائیہ نے بھارتی جنگی طیاروں اور رافیل جہازوں کو ناکارہ بنایا جبکہ پاکستانی فوج نے دشمن کے ہیڈکوارٹر، چوکیوں اور توپ خانے کو تباہ کیا۔





