جب خبر دی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ ہونے جارہاہے ،بعض اوقات اس لئے بھی دی جاتی ہے کہ یہ نہ ہو ،سہیل وڑائچ

جب خبر دی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ ہونے جارہاہے ،بعض اوقات اس لئے بھی دی جاتی ہے کہ یہ نہ ہو ،سہیل وڑائچ

منصور علی خان کے شو میں سہیل وڑایچ نے ’’ونڈر بوائے‘‘ اور خبروں کے مقصد پر اہم وضاحت دیا سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑایچ نے حالیہ کالم اور منصور علی خان کے شو میں اپنی بات چیت کے دوران خبروں کے مقصد، ذرائع اور تشریح کے حوالے سے اہم ریمارکس دیے۔

منصور علی خان نے سوال کیا کہ ’’آپ کے ونڈر نے تو بہت سے لوگوں کو بلنڈر کرنے پر مجبور کیا، یہ کیا کہانی ہے؟‘‘

اس کے جواب میں سہیل وڑایچ نے کہا کہ ’’ہمارے ذرائع ہوتے ہیں، ہم لوگوں کی گفتگو سنتے ہیں اور بعض اوقات بند دروازوں کے اندر ہونے والی باتیں بھی ہمارے علم تک پہنچ جاتی ہیں۔ تاہم، جب کوئی خبر دی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ یہ واقعہ لازمی طور پر ہونے جا رہا ہے۔ بعض اوقات خبریں اس لیے بھی دی جاتی ہیں تاکہ ممکنہ نتائج اور ردعمل کو جانچا جا سکے یا یہ نہ ہو کہ صرف افواہوں پر مبنی اقدامات کیے جائیں۔‘‘

انہوں نے وضاحت کی کہ ونڈر بوائے کا ذکر یہ ظاہر نہیں کرتا کہ حکومت میں کوئی تبدیلی متوقع ہے۔ ’’یہ محض ایک خیال یا امکان ہو سکتا ہے کہ کیبنٹ کس طرح ہو، کون سا نظام بنایا جائے، یا کس قسم کی ڈیلوری متوقع ہے۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ عوام کو موجودہ رائے عامہ اور گفتگو سے آگاہ کریں تاکہ اس کے حق یا مخالفت میں مباحثہ ہو سکے۔‘

سہیل وڑایچ نے مزید کہا کہ ان کے کالم میں حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان موجودہ اختلافات کا بھی ذکر تھا اور یہ خبریں اور تبصرے عوام کو صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ’’صحافی اور کالم نگار کا مقصد ہمیشہ حقائق کی بنیاد پر رائے دینا اور معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ قیاس آرائی یا غیر مصدقہ خبروں کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا،‘‘

انہوں نے کہاکہ سہیل وڑایچ کی وضاحت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ میڈیا میں آنے والی خبریں ہمیشہ کسی فیصلے یا عمل کی ضمانت نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ایک معلوماتی عمل اور عوامی آگاہی کا حصہ ہوتی ہیں، جس کے ذریعے مختلف آراء اور ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

Scroll to Top