پاکستان میں 5جی کب شروع ہوگی؟ اہم شہروں کی فہرست جاری

اسلام آباد: پاکستان میں طویل انتظار کے بعد بالآخر 5جی سروس کے آغاز کی امید دوبارہ جاگ اٹھی ہے۔

حکومت اور ریگولیٹری اداروں کی حالیہ سرگرمیوں کے بعد یہ سوال زور پکڑ گیا ہے کہ آیا رمضان المبارک سے قبل 5جی اسپیکٹرم آکشن واقعی ممکن ہو سکے گا یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 5جی آکشن سے متعلق اپنی تمام بنیادی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

پی ٹی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ اسپیکٹرم آکشن کا مکمل ڈیزائن تیار ہے، اور نیٹ ورک، ٹیکنالوجی، کوالٹی آف سروس اور رول آؤٹ اسٹریٹجی پر تفصیلی کام مکمل ہو چکا ہے۔

پی ٹی اے حکام کے مطابق 5جی اسپیکٹرم آکشن 26 فروری کو متوقع ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیلی کام آکشن ہوگا، جس میں تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ آکشن سے حکومت کو کم از کم 630 ملین ڈالر بغیر ٹیکس آمدن متوقع ہے۔

آکشن کے بعد کامیاب ٹیلی کام آپریٹرز کو ٹیکنالوجی نیوٹرل 15 سالہ لائسنس دیا جائے گا، اور 5جی سروس مرحلہ وار بنیادوں پر متعارف کرائی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں کم از کم 50 ایم بی پی ایس ڈاؤن لوڈ اسپیڈ کی شرط عائد کی جائے گی۔ پی ٹی اے کے مطابق 5جی کے ساتھ ساتھ 4جی نیٹ ورک کی کوالٹی میں بھی نمایاں بہتری لازمی ہوگی۔

آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ 4جی نیٹ ورک کی رفتار اور معیار میں کم از کم 4 سے 5 گنا اضافہ کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ 5جی سروس ابتدائی طور پر بڑے شہروں اور منتخب کمرشل علاقوں میں متعارف کرائی جائے گی، جہاں 5جی ڈیوائسز کی دستیابی زیادہ ہے۔

اسلام آباد کے بلیو ایریا اور ایف-10، کراچی کے ڈیفنس اور کلفٹن، لاہور اور دیگر صوبائی دارالحکومتوں کے اہم تجارتی علاقوں میں پہلے مرحلے میں 5جی سروس فراہم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : ایپل شائقین کے لیے فولڈ ایبل آئی فون سے متعلق بڑی خوشخبری

پہلے سال کے دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنی موجودہ نیٹ ورک سائٹس کے کم از کم 10 فیصد پر 5جی سروس فراہم کریں۔

جہاں 5جی دستیاب ہوگی، وہاں انٹرنیٹ اسپیڈ موجودہ نیٹ ورکس کے مقابلے میں 14 سے 15 گنا زیادہ ہوگی، جبکہ دیگر علاقوں میں صارفین کو بہتر 4جی سروس فراہم کی جائے گی۔

پی ٹی اے حکام نے واضح کیا ہے کہ 5جی نیٹ ورک بیک ورڈ کمپٹیبل ہوگا، یعنی 5جی موبائل فون نہ رکھنے والے صارفین بھی 5جی علاقوں میں بلا تعطل 4جی سروس استعمال کر سکیں گے۔ 5جی موجودہ نیٹ ورک انفراسٹرکچر پر اضافی ٹیکنالوجی لیئر کے طور پر نصب کیا جائے گا۔

اسٹار لنک سے متعلق سوال پر پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ معاملہ تاحال پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ کے پاس زیر غور ہے۔

کلیئرنس کے بعد جب بھی اسٹار لنک پی ٹی اے سے لائسنس کے لیے رجوع کرے گا، تمام قانونی تقاضے پورے ہونے پر اجازت دے دی جائے گی۔

Scroll to Top