عمان کی وزارتِ محنت نے نجی اور سرکاری اداروں کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ وزارت کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی ملازم کو برطرف نہیں کیا جا سکتا۔
بدھ کے روز مجلسِ شوریٰ کے ایک رکن کے سوال پر وزیرِ محنت نے بتایا کہ اداروں کو کسی بھی برطرفی سے قبل نظرِ ثانی کے لیے اپنی درخواست وزارت میں جمع کرانا لازم ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کمپنیاں وزارت کو اطلاع دیے بغیر ملازمین کو نکالیں گی، ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیرِ محنت کے مطابق وزارت محنت نہ صرف غیرقانونی برطرفیوں پر سخت ایکشن لے گی بلکہ متاثرہ ملازمین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ بھی کیا جائے گا۔
یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں ایک بڑی نجی کمپنی کی جانب سے متعدد ملازمین کو ملازمت سے فارغ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یاد رہے کہ سلطنتِ عمان میں حال ہی میں رہائشی قوانین میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جبکہ ملک میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں سے متعلق ضوابط کو بھی مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایک خصوصی اجلاس کے دوران عمان گلوبل فنانشل سینٹر کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ نیا بین الاقوامی مالیاتی مرکز سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گا۔





