جے ایف-17 تھنڈر کی عالمی گونج، برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کا اعتراف

اسلام آباد: برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے پاکستان کے مقامی سطح پر تیار کردہ جنگی طیارے جے ایف-17 تھنڈر کی کامیابیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مضمون شائع کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ طیارہ عالمی دفاعی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔

سعودی عرب، بنگلہ دیش، عراق، انڈونیشیا اور لیبیا سمیت کئی ممالک نے اس طیارے کی خریداری میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کے بعد واضح ہو گیا تھا کہ ریاض جدید دفاعی تعاون کے لیے اسلام آباد کی طرف راغب ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضے کو جے ایف-17 طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔

جے ایف-17 تھنڈر کی خاص بات اس کی کم قیمت اور اعلیٰ جنگی صلاحیت ہے۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ چار روزہ فضائی تنازع کے دوران اس طیارے نے عملی طور پر اپنی قابلیت ثابت کی، جہاں جے ایف-17 نے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کی۔

پاکستان نے اس جنگ میں بھارتی فضائیہ کے چھ طیارے مار گرائے، جن میں تین رافیل بھی شامل تھے۔ پاکستان ایئر فورس کے مطابق جے ایف-17 نے روسی ساختہ ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو ہائپرسونک میزائل سے نشانہ بنایا۔

جے ایف-17 تھنڈر پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں تیار کیا جاتا ہے اور اس کا بلاک ٹو ورژن 4.5 جنریشن کا ملٹی رول فائٹر جیٹ ہے۔

یہ جدید AESA ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور چینی ساختہ PL-10E میزائل سے لیس ہے۔ طیارہ کم اور درمیانی بلندی پر اعلیٰ پھرتی، فائر پاور اور بقا کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جے ایف-17 کی قیمت رافیل، یورو فائٹر ٹائفون اور گریپن جیسے مغربی طیاروں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

رافیل کی قیمت 90 ملین ڈالر سے زائد ہے جبکہ جے ایف-17 نمایاں طور پر کم لاگت میں دستیاب ہے، جو ترقی پذیر ممالک کے لیے اسے پرکشش بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : درہ آدم خیل کو سیالکوٹ طرز کے انڈسٹریل زون میں تبدیل کرنے کے لیے اہم اجلاس

پہلا خریدار: میانمار، 2015
نائجیریا: 2021 میں تین طیارے خریدے
آذربائیجان: فروری 2024 میں 1.5 ارب ڈالر میں 16 طیارے
نومبر 2024: فتح کے دن کی پریڈ میں 5 طیارے پیش کیے گئے

حالیہ پیش رفت میں پاکستان کے فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور بنگلہ دیش کے فضائیہ کے سربراہ کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں جے ایف-17 کی ممکنہ خریداری پر بات چیت کی گئی۔

رائٹرز کے مطابق انڈونیشیا بھی 40 سے زائد جے ایف-17 طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ عراق نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔

دفاعی تجزیہ کار اور سابق ایئر مارشل عامر مسعود کے مطابق پاکستان چھ ممالک کے ساتھ جے ایف-17 سمیت دفاعی سازوسامان کی فراہمی کے معاہدوں پر بات چیت کر رہا ہے یا انہیں حتمی شکل دے چکا ہے، جس سے پاکستان کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

Scroll to Top