واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران میں قتل و غارت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور مظاہرین کو سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ اگر ایران میں مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رہا تو واشنگٹن سخت ردعمل دے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکومت انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے توجہ مرکوز رکھے گی۔
ٹرمپ نے وینزویلا کے حوالے سے بھی اعلان کیا کہ وہاں راز افشاکرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پینٹاگون کے کنٹریکٹر کو وینزویلا آپریشن سے متعلق خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
صدر نے گرین لینڈ کے بارے میں بھی کہا ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکمت عملی کے نتیجے میں عالمی سطح پر 8 جنگیں روکی گئی ہیں اور دنیا میں تنازعات میں کمی آئی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ وہاں موجود نہ رہا تو روس اور چین خطے میں داخل ہو جائیں گے، اور ڈنمارک اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کر سکتا، لیکن امریکہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا آئندہ 24 گھنٹوں میں ایران میں فوجی مداخلت کر سکتا ہے، خبررساں ایجنسی
جبکہ دوسری جانب ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں اور امریکی صدر کی جانب سے مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران میں فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر امریکا نے اپنے مختلف فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کا انخلا شروع کر دیا ہے، جسے ممکنہ امریکی کارروائی کی پیشگی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے کیونکہ ایران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے نشانہ بن سکتے ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور امریکی عہدیدار نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باعث اہم فوجی تنصیبات سے محدود عملہ واپس بلایا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں برطانیہ نے بھی قطر میں واقع اپنے فضائی اڈے سے بعض اہلکار نکالنا شروع کر دیے ہیں۔
ایک مغربی فوجی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ موجودہ حالات میں تمام اشارے اس جانب جا رہے ہیں کہ امریکی حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔





