پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات ارباب خضر حیات نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس دن پورے ملک میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔
ارباب خضر حیات نے کہا کہ بطور ایک سیاسی ورکر ان کا اندازہ ہے کہ پی ٹی آئی پورے پاکستان میں دو ہزار افراد بھی سڑکوں پر نہیں لا سکے گی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے پشاور، صوابی، مردان، لاہور، کراچی اور دیگر شہروں میں ہونے والے جلسوں کی پوزیشن ان کے سامنے بھی ہے اور قوم بھی بخوبی جان چکی ہے کہ پی ٹی آئی کی حقیقت اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی درحقیقت ایک سیاسی جماعت نہیں رہی اور وہ ذاتی طور پر اسے سیاسی جماعت ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی مثال ایسی ہے جیسے بلی خواب میں چیچڑے دیکھے۔ پی ٹی آئی والے بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں کہ ملک کو جام کر دیں گے، مگر جب ان کے پاس عوامی قوت ہی نہیں تو ملک کو کیسے جام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی اپنی حقیقت خود دیکھ چکی ہے۔
ارباب خضر حیات کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے لاہور اور کراچی کے دورے کیے، جہاں بھی انہیں اپنی سیاسی حیثیت کا اندازہ ہو گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی اب ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دہشت گرد سوچ رکھنے والی جماعت بن چکی ہے، اور دہشت گرد عناصر کبھی ملک کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے اور نہ ہی وہ قومی مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی فلائٹ میں ساڑھے چار گھنٹے کی تاخیر
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد وہ بمشکل دو دن بھی صوبے میں موجود نہیں رہے۔ کبھی وہ اڈیالہ جیل کے باہر نظر آتے ہیں، کبھی لاہور اور کبھی کراچی میں ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کو سیر و تفریح سے فرصت نہیں اور کابینہ بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے، جبکہ صوبے کو یتیم چھوڑ دیا گیا ہے۔
ارباب خضر حیات نے کہا کہ صوبے میں گڈ گورننس کا فقدان ہے، دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے، کرپشن بڑھ رہی ہے اور خیبرپختونخوا بے یارو مددگار بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بار بار وفاقی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنا آئینی کردار ادا کرے اور صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جائے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔





