پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیاض الحسن چوہان نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں وفاقی اور صوبائی کابینہ کے فنڈز کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے وادی تیراہ سے آئی ڈی پیز کو عزت، احترام اور وقار کے ساتھ محفوظ طور پر منتقل کرنے کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی تھی تاہم عملی طور پر صرف 2 ارب روپے مختص کیے گئے۔
فیاض الحسن چوہان نے سوال کیا کہ باقی رقم کہاں گئی اور کہا کہ یہ پیسہ کرپٹ عناصر اور اسمگلرز کی جیبوں میں جا رہا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر خیبر اور قبائلی عوام سے اپیل کی کہ وہ یہ سوال ضرور کریں کہ ان کا پیسہ کہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بدامنی کی وجہ سے وزیراعلی کے آبائی ضلع میں تیراہ سے عوام نقل مکانی کررہے ہیں،اے این پی
فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ شفافیت اور عوامی وسائل کے درست استعمال کے لیے حکومتی سطح پر جواب طلبی ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ وادی تیراہ میں آپریشن خیبرپختونخوا اسمبلی کی منظوری اورپی ٹی آئی حکومت کی اجازت سے شروع کیا گیا۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے آئی ڈی پیز کی منتقلی کے لیے 4 ارب روپے منظور کیے تھے، جن میں سے صرف 2 ارب روپے مختص کیے گئے۔





