پشاور یونیورسٹی میں طالبات کی مبینہ ماڈلنگ وائرل ویڈیو پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی قائم

سلمان یوسفزئی

جامعہ پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے منعقدہ ویلکم پارٹی کے دوران پیش آنے والے واقعے اور طالبات کی مبینہ ماڈلنگ سے متعلق وائرل ویڈیوز کے معاملے پر وائس چانسلر جامعہ پشاور نے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔

یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ آفس آرڈر کے مطابق کمیٹی ویلکم پارٹی کے دوران پیش آنے والے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور اصل حقائق معلوم کرے گی۔

خیال رہے کہ مذکورہ تقریب 15 جنوری 2026 کو یونیورسٹی پبلک اسکول آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر انوش خان کریں گی، جبکہ دیگر ارکان میں پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ امان (چیئرپرسن شعبہ پولیٹیکل سائنس)، ڈاکٹر محمد عرفان فیض (چیف پروکٹر/اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ جیالوجی)، ڈاکٹر ابرار خان (ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ سوسائٹیز/اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ کرمنالوجی)، ڈاکٹر اختر امین (ایڈیشنل رجسٹرار اسٹیبلشمنٹ) اور محمد امل خان (ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن) شامل ہیں، جو بطور سیکریٹری فرائض انجام دیں گے۔

یونیورسٹی اعلامیے کے مطابق کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مکمل اور شفاف انکوائری کے بعد تین دن کے اندر اپنی رپورٹ اور سفارشات مجاز اتھارٹی کو جمع کرائے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر جامعہ پشاور کی ایک مبینہ تقریب کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جن میں طالبات کی ماڈلنگ سے متعلق دعوے کیے جا رہے تھے جس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور یونیورسٹی انتظامیہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

جامعہ پشاور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Scroll to Top