علی امین گنڈا پور کو وزارت اعلیٰ سے کیوں نکالا؟ سنیئر تجزیہ کار حماد حسن حقائق سامنے لے آئے

سینئر تجزیہ کار حماد حسن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق مبینہ سازش پر اہم اور حیران کن دعوے کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس پورے معاملے کا آغاز صنم جاوید کی گرفتاری سے ہوا۔

آزاد ڈیجیٹل کے  پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حماد حسن نے کہا کہ وہ یہ بات ریکارڈ پر لا رہے ہیں کہ وزارت اعلی کے عہدے سے ہٹانے سے تین روز قبل علی امین گنڈاپور نے مراد سعید سے فون پر سخت لہجے میں بات کی۔

حماد حسن کے مطابق وزیراعلیٰ نے مراد سعید پر الزام عائد کیا کہ انہیں منصب سے ہٹانے کی منصوبہ بندی مراد سعید، سہیل آفریدی اور مینا خان نے مشترکہ طور پر کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور کی برطرفی کا معاملہ صنم جاوید کی گرفتاری سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جس گاڑی میں صنم جاوید سفر کر رہی تھیں وہ سہیل آفریدی کی ملکیت تھی اور اسی گاڑی کے ذریعے ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔

حماد حسن کا کہنا تھا کہ صنم جاوید کی گرفتاری کے واقعے کے بعد ہی علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹایا گیا، جس سے پورے معاملے پر کئی سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔

سیکیورٹی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے حماد حسن نے کہا کہ تیراہ میں آپریشن کی مخالفت مقامی عوام نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کر رہے ہیں، جو ہر ریاستی اقدام کو سازش سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پختون روایات

Scroll to Top