خیبرپختونخوا میں آٹے کا بحران ،20کلو کاتھیلا کتنے دن بعد ملے؟محکمہ خوراک نے پالیسی جاری کردی

خیبرپختونخوا میں آٹے کا بحران ، 20کلو کاتھیلا کتنے دن بعد ملےگا؟محکمہ خوراک نے پالیسی جاری کردی

 محمداعجازآفریدی
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں آٹے کی بلا تعطل فراہمی، قیمتوں میں استحکام اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لئے ویٹ ریلیز پالیسی 2026 نافذ کر دی ہے۔

محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کی جانب سے ایس او پیز پر مشتمل اعلامیہ جاری کیا گیا۔

جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق پالیسی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور اس کے تحت صوبے بھر کی فعال فلور ملز کو حکومتی گندم فراہم کی جائے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ محکمہ خوراک ایک لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن پاسکو اور مقامی طور پر خریدی گئی گندم فلور ملز کو فراہم کرے گا، جبکہ صوبائی ذخائر میں موجود 6 ہزار 381میٹرک ٹن گندم اس کے علاوہ ہوگی ۔

اعلامیے کے مطابق حکومتی گندم کی ریلیز قیمت10 ہزار 414 روپے فی 100 کلو مقرر کی گئی ہے جس میں پیسائی اور بوری کی لاگت شامل ہوگی۔

اس کے تحت 20 کلو آٹے کے تھیلے کی ایکس مل قیمت2 ہزار 190 روپے جبکہ سرکاری ریٹیل قیمت 2 ہزار 220 روپے مقرر کی گئی ہے۔ تمام آٹے کے تھیلوں پر سبز رنگ کا سرکاری مونوگرام، وزن اور منظور شدہ قیمت واضح درج کرنا لازم ہوگا۔

اعلامیہ کے ساتھ جاری ہونے والی پالیسی کے تحت تمام آپریشنل فلور ملز کو روزانہ کی بنیاد پر موصول گندم، پیسی گئی گندم اور تیار شدہ آٹے کی رپورٹ جمع کرانا ہوگی، بصورت دیگر انہیں حکومتی گندم کی فراہمی معطل کی جا سکتی ہے۔

ضلعی سطح پر گندم کا کوٹہ آبادی کی بنیاد پر مقرر کیا جائے گا، جبکہ کسی ضلع میں فلور مل کی عدم فعالیت کی صورت میں گندم قریبی اضلاع کو منتقل کی جا سکے گی۔

واضح کیا گیا ہے کہ نادہندہ فلور ملز اور آٹا ڈیلرز کو حکومتی گندم جاری نہیں کی جائے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سخت نگرانی کیلئے فلور ملز اور فوڈ گوداموں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا لازمی ہوگا جبکہ گندم اور آٹے کی ترسیل کے تمام مراحل آئی ٹی سسٹم کےذریعے مانیٹر ہوں گے۔

ایک شہری کو 20 کلو آٹے کا ایک تھیلا 40 دن سے قبل دوبارہ نہیں مل سکے گا۔خلاف ورزی کی صورت میں فلور مل کی جانب سے آٹے کی کم فراہمی پر 20 کلو پر2 ہزار828 روپے جبکہ آٹا ڈیلر کی جانب سے مقررہ نرخ سے زائد یا کم فراہمی پر4 ہزار440 روپے فی 20 کلو جرمانہ عائد کیا جائے گا، اس کے علاوہ کوٹہ منسوخی اور قانونی کارروائی بھی کی جا سکے گی۔

Scroll to Top