محکمہ صحت مہمند میں غیر قانونی بھرتیوں کا پردہ فاش،73 تقرریاں منسوخ، ریکوری کا حکم

محکمہ صحت مہمند میں غیر قانونی بھرتیوں کا پردہ فاش،73 تقرریاں منسوخ، ریکوری کا حکم

خیبر پختونخوا حکومت نے ضلع مہمند میں محکمہ صحت کے تحت پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھرتیوں میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہونے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے 73 تقرریاں منسوخ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ انتظامیہ خیبر پختونخوا کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) مہمند کے دفتر میں پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھرتیوں کے خلاف ہونے والی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری مکمل کر کے رپورٹ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کی گئی، جس کی روشنی میں وزیر اعلیٰ نے متعدد سخت سفارشات کی منظوری دی۔

انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھرتیوں کے دوران قواعد و ضوابط، میرٹ اور شفافیت کو بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق متنازعہ بھرتی عمل کے تحت کی گئی تمام 73 تقرریوں کو ابتدا ہی سے غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا گیا ہے، جس پر فوری عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

حکومتی فیصلے کے تحت نہ صرف تمام تقرریاں فوری طور پر منسوخ کی جائیں گی بلکہ ان ملازمین کی جانب سے سرکاری خزانے سے وصول کی گئی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مراعات کی مکمل ریکوری کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ ریکوری کا عمل قانون کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اس حوالے سے پیش رفت رپورٹ حکومت کو ارسال کی جائے۔

ذرائع کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ انکوائری میں بعض ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن کے خلاف آئندہ دنوں میں محکمانہ کارروائی اور ممکنہ قانونی اقدامات کا امکان ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور عوامی مفاد کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

Scroll to Top