اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج 2026 کے آغاز میں نئی سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا، جس پر ملک بھر کی معاشی سرگرمیاں نگاہیں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار بنیادی شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں آنے کا امکان ہے، جو کاروباری اور صارفین کے لیے خوش آئند خبر ہو سکتی ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس کراچی میں ہوگا، جس میں معاشی اشاریوں، مہنگائی کی صورتحال، اور مالیاتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پریس کانفرنس کے ذریعے پالیسی کا اعلان کریں گے اور شرح سود کی حتمی صورت حال سے آگاہ کریں گے۔
یاد رہے کہ 2025 کی آخری مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود کو آدھا فیصد کم کیا تھا، جس کے بعد پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد رہا۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ حالیہ ٹریژری بلز کی نیلامی میں بنیادی شرح سود میں کمی کا اشارہ موجود ہے۔
چار سال بعد حکومت نے بینکوں سے لیے گئے قرض پر شرح سود کو سنگل ڈیجیٹ میں لا دیا ہے، جس کے اثرات مانیٹری پالیسی پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسٹیٹ بینک نے سمندر پار پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنادی
سروے کے مطابق اگر ٹریژری بلز پر شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں برقرار رہی تو بنیادی شرح سود میں کمی ممکن ہے۔
اقتصادی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں، مہنگائی پر قابو ہے اور ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیش نظر اسٹیٹ بینک بنیادی شرح سود میں آدھے سے ایک فیصد تک کمی کر سکتا ہے۔
مانیٹری پالیسی میں یہ تبدیلی کاروباری طبقے، سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے اہم کردار ادا کرے گی، کیونکہ شرح سود میں کمی سے قرضے سستے ہوں گے اور معیشت میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے۔





