مونٹریئل (کینیڈا) کونکورڈیا یونیورسٹی کی نئی تحقیق اور بین الاقوامی مطالعات کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ پلاسٹک کی بند بوتل سے پانی پینے والے افراد سالانہ لاکھوں مائیکروپلاسٹک ذرات اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔
تحقیق میں 140 سے زائد مطالعات کا جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق بوتل بند پانی میں ہر لیٹر میں 2 سے 6,626 تک مائیکروپلاسٹک ذرات موجود ہو سکتے ہیں، جبکہ نینو پلاسٹک کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی روزانہ کی پانی کی مقدار صرف سنگل یوز بوتل سے حاصل کرے تو وہ سالانہ تقریباً 90,000 اضافی مائیکروپلاسٹک ذرات اپنے جسم میں جذب کر لیتا ہے، جبکہ صرف نل کے پانی پینے والے افراد میں یہ تعداد تقریباً 4,000 ذرات سالانہ ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ بوتل کے گلے اور ڈھکن روشنی، حرارت اور دیگر عوامل کے اثر سے مائیکروپلاسٹک خارج کرنے کے بنیادی ذرائع ہیں۔
عالمی مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایک عام انسان سالانہ تقریباً 39,000 سے 52,000 مائیکروپلاسٹک ذرات خوراک اور پانی کے ذریعے جذب کرتا ہے، لیکن جو لوگ روزانہ پلاسٹک بوتل سے پانی پیتے ہیں، ان میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 90,000 ذرات تک پہنچ جاتی ہے۔
مائیکروپلاسٹک ذرات کا سائز ایک نانومیٹر سے پانچ ملی میٹر تک ہو سکتا ہے اور یہ بوتل کے اندر موجود پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ناخنوں میں یہ تبدیلی خطرے کی گھنٹی ہے، جان لیں کون سی بیماری کا اشارہ ہے
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ذرات مدافعتی نظام، ہارمونز اور اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں سے بھی منسلک ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے صارفین کو محفوظ اور صاف پانی فراہم کرنے کے لیے فوری اثرات کے جائزے اور معیاری ٹیسٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ بوتل بند پانی کے زیادہ استعمال سے گریز کیا جائے اور صارفین کو ایسے پانی کی طرف راغب کیا جائے جو کم سے کم پلاسٹک کے رابطے میں آئے، تاکہ صحت کے لیے خطرات کو کم کیا جا سکے۔





