سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں منشیات کی ایک بہت بڑی انڈسٹری قائم ہے جہاں سے دہشتگرد بھاری مالی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنااللہ نے انکشاف کیا کہ وادی تیراہ میں 12 ہزار ایکڑ رقبے پر بھنگ کاشت کی جا رہی ہے جو دہشتگردی کی فنڈنگ کا بڑا ذریعہ ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور جہاں جہاں دہشتگرد موجود ہوں گے وہاں کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تیراہ کے عمائدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی آبادیوں میں دہشتگردوں کو پناہ نہ دیں اور مقامی لوگوں سے فورسز کی مدد کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت اس پوری صورتحال سے آگاہ ہے لیکن ایسا بیانیہ بنا رہی ہے جیسے اسے کچھ معلوم ہی نہ ہو، انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت اس لیے معاملہ تسلیم نہیں کر رہی کیونکہ آپریشن کی سہولت کاری کرنے سے اسے اے این پی جیسا سیاسی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبادی کو معلوم ہے کہ آپریشن کسی بھی وقت ہو سکتا ہے اور پالیسی واضح ہے کہ شہری اپنی حفاظت کے لیے نقل مکانی کر رہے ہیں۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 8 فروری کا احتجاج الیکشن کی یاد میں ہے اور مولانا فضل الرحمان کا احتجاج حکومت کے موقف کی تائید ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وادی تیراہ نقل مکانی معاملہ، صحافی ریما عمر نےشاندانہ گلزار اور پی ٹی آئی کا جعلی بیانیہ بے نقاب کردیا
ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے ساتھ جتنی دھاندلی ہوئی وہ پی ٹی آئی نے کی اور 8 فروری کو مولانا فضل الرحمان یوم سیاہ پی ٹی آئی کے خلاف منا رہے ہیں۔
سینیٹر رانا ثنااللہ کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ہمیشہ چھوٹی سوچ اپنائی جاتی رہی ہے۔





