ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعہ گوادر آمد: نوجوانوں کے ساتھ مکالمے اور اعتماد کے نئے باب کا آغاز

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعہ گوادر آمد: نوجوانوں کے ساتھ مکالمے اور اعتماد کے نئے باب کا آغاز

امان اللہ جان بلوچ گوادر
آج 28 جنوری کو جامعہ گوادر میں پی سی ٹی اینڈ وی آئی کے زیرِ اہتمام ڈی جی آئی ایس پی آر کی آمد محض ایک رسمی دورہ نہیں تھی بلکہ یہ لمحہ گوادر کے نوجوانوں کے لیے ایک نئے فکری، ذہنی اور قومی شعور کے باب کے آغاز کی علامت بن گیا۔ یہ وہ نشست تھی جس میں صرف سوال و جواب نہیں ہوئے، بلکہ سوچوں کے فاصلے کم ہوئے، غلط فہمیاں ٹوٹیں اور اعتماد کی ایک نئی فضا نے جنم لیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا طلباء سے انٹریکشن محض معلوماتی یا مکالماتی نہیں تھا، بلکہ یہ دلوں کو جیتنے اور ذہنوں کو مطمئن کرنے کی ایک بھرپور کوشش تھی۔ طلباء نے کھل کر اپنے خدشات، سوالات اور تحفظات پیش کیے۔ یہ سوالات صرف آج کے حالات تک محدود نہیں تھے بلکہ کل کے پاکستان، کل کے بلوچستان اور کل کے گوادر سے جڑے ہوئے تھے۔ نوجوانوں نے مستقبل کے حوالے سے اپنی امیدیں بھی بیان کیں اور اپنے خدشات بھی، اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے نہایت بردباری، وضاحت اور خلوص کے ساتھ ہر سوال کا جواب دیا۔

ان کے اندازِ گفتگو میں نہ کوئی تصنع تھا، نہ فاصلے کا احساس۔ وہ ایک اعلیٰ عہدے پر فائز افسر سے بڑھ کر ایک رہنما اور ایک ہم درد مکالمہ کرنے والے کے طور پر سامنے آئے۔ طلباء کی شکایات ہوں، غلط فہمیاں ہوں یا قومی معاملات پر سوالات، ہر نکتے کو سنجیدگی سے سنا گیا اور مدلل انداز میں جواب دیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ نشست محض ایک پروگرام نہیں رہی بلکہ دلوں کو قریب لانے اور ذہنوں کو جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئی۔

یہ انٹریکشن اس حقیقت کا عملی ثبوت تھا کہ نوجوانوں سے بات کی جائے، ان کی سنی جائے اور انہیں اعتماد دیا جائے تو وہ مایوسی کے بجائے امید، شکوک کے بجائے شعور اور دوری کے بجائے قربت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے جوابات میں نہ صرف موجودہ حالات کی وضاحت تھی بلکہ مستقبل کی سمت کا تعین بھی تھا۔ گویا آج طلباء نے کل کی بات کی اور انہیں کل کے جواب ملے۔

گوادر جیسے حساس اور اہم خطے کے نوجوانوں کے لیے یہ لمحہ اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ یہاں اکثر بات کی جاتی ہے مگر بات چیت کم ہوتی ہے۔ آج جامعہ گوادر کے ہال میں پہلی بار یہ احساس واضح طور پر محسوس ہوا کہ ریاست اور نوجوان ایک ہی صفحے پر آ سکتے ہیں، ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں اور مل کر آگے بڑھنے کا راستہ بنا سکتے ہیں۔

یہ نشست اس بات کی علامت بنی کہ قومی ادارے محض طاقت کا استعارہ نہیں بلکہ مکالمے، اعتماد اور شفافیت کے ذریعے دل جیتنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ آج گوادر کے نوجوانوں نے ایک نئے باب کا آغاز اپنی آنکھوں سے دیکھا، ایک ایسا باب جس میں فاصلے کم اور رشتے مضبوط ہوں گے، جہاں سوال دبائے نہیں جائیں گے بلکہ سنے جائیں گے، اور جہاں جواب محض الفاظ نہیں بلکہ یقین بن کر دلوں میں اتر جائیں گے۔

یقیناً 28 جنوری کا یہ دن جامعہ گوادر اور یہاں کے نوجوانوں کی تاریخ میں ایک یادگار دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، کیونکہ یہ دن صرف ایک انٹریکشن کا نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور امید کے ایک نئے سفر کے آغاز کا دن تھا۔

Scroll to Top