9 مئی پر وزیراعلیٰ کا نام آنے کے باوجود حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا،فیصل کریم کنڈی

9 مئی پر وزیراعلیٰ کا نام آنے کے باوجود حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا،فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے یومِ یکجہتی کشمیر کی ریلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں انصاف کے نظام اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حوالے سے اہم موقف اختیار کیا۔

گورنر نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکۂ حق میں ہم نے ہندوستان کو چار دن میں شکست دی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، کیونکہ کشمیری عوام پر ہندوستان ظلم کر رہا ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کا ہر بچہ کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

گورنر نے صوبے اور وفاق کے درمیان ہونے والی دو اہم میٹنگز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “کچھ برف پگھلی ہے” اور وزیراعظم و وزیراعلیٰ کی میٹنگ امن و خوشحالی کے لیے اہم اقدام ہوگی۔ انہوں نے ایپکس کمیٹی کی میٹنگ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس کے نتائج عوام کے لیے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ جلد جاری کرے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے پاکستان میں سزا و جزا کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سزا جزا نہیں۔ اگر 9 مئی میں وزیراعلیٰ کا نام ہے تو حکومت ایکشن لے۔ اگر ثبوت ہیں تو عدالتیں موجود ہیں۔” انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بچی کے سوال میں کوئی غلطی نہیں تھی، نہیں سمجھتا ہوں بچی نے جو سوال کیا وہ غلط ہے، اگر 13 سال کا بتا دیتے تو اچھا ہوتا کہ کیا کیا ہوا ہے۔

انہوں نے بسنت کے حوالے سے کہا کہ لوگ خود میلے میں جاتے ہیں، اور پنجاب میں 8 فروری کو بسنت منائی جا رہی ہے، تو سوال یہ ہے کہ احتجاج کس کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہمیں بھی بسنت کی طرح ایونٹس کرنے چاہئیں۔ قیدی کو نہ چھوڑا گیا تو دکانیں اور روڈ بند کرنے کا کیا فائدہ؟”

گورنر نے 28ویں ترمیم کے حوالے سے کہا کہ یہ کوئی “گولا نہیں جو گرے گا”، بلکہ جب ڈرافٹ تیار ہوگا تو اس پر ترمیم کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد ایک میلہ منعقد کیا جائے گا تاکہ مثبت پیغام عوام تک پہنچے۔

فیصل کریم کنڈی نے دہشتگردوں سے بات چیت کے حوالے سے صوبائی حکومت کے موقف پر کہا کہ “حکومت والے اپنے ہیں، ان سے بات کرتے ہیں، اچھا ہوا وزیراعظم سے ملاقات ہوئی۔ وفاق تیراہ کے معاملے سے بری الذمہ نہیں، اس کی بھی ذمہ داری ہے۔” گندم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ نے بات نہیں کی تو وہ خود وزیراعظم سے بات کریں گے۔

Scroll to Top