ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کے 8 فروری کو ہونے والے احتجاج کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے صوبائی حکومت کے وزراء “چلو چلو” جیسے بے مقصد نعروں میں مصروف ہیں، جس سے عوام میں شدید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔
وزیرستان کے عوام پی ٹی آئی کے کھوکھلے نعروں، جھوٹ اور فریب پر مبنی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔ عوامی نمائندوں کے مطابق سابق اور موجودہ وزیراعلیٰ دونوں اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں کی بجائے وقتی اور نمائشی کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔
ڈسٹرکٹ سطح کے ذرائع نے بتایا کہ وزیرستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے اور کسی کو بھی ان حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نہ تو شٹر ڈاؤن احتجاج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی کسی موثر مزاحمت کی پوزیشن میں ہے۔
عوامی حلقوں نے زور دے کر کہا کہ علاقے میں ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے، نہ کہ سیاسی نعروں اور مظاہروں کی۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بروقت ادا کرے اور وزیرستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔





