اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے بھارت کے ساتھ کرکٹ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ بھرپور مشاورت کے بعد کیا ہے اور اس فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر مثبت ردعمل ملا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے کرکٹ کی دنیا میں انتہائی اہم اور مؤثر فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بنگلا دیش نے ہمارے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے، اور اگر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکومت سے رابطہ کرتا ہے تو اس پر پھر غور کیا جائے گا۔
عطا تارڑ نے اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے شٹرڈاؤن کال پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ عوام نے اس کال کو مسترد کر دیا ہے۔
اُن کے مطابق تمام دکانیں کھلی ہوئی ہیں اور لوگ معمول کی زندگی گزار رہے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ شٹرڈاؤن کی کوششیں ناکام رہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے بیرسٹر گوہر کو کمیٹیوں میں واپس آنے کی پیشکش کر دی ہے اور یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ پارلیمانی عمل میں دوبارہ شامل ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : لاہور: بسنت کی خوشیاں لمحوں میں ماتم میں بدل گئی
عطا تارڑ نے کہا کہ اپوزیشن نے پہلے بھی سب کچھ کر کے دیکھ لیا ہے، لیکن آئندہ ہفتہ قومی سیاسی منظرنامے کے لیے بہت اہم ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو بنی گالہ منتقل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
بسنت کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں بسنت منانے کے لیے بیرون ملک سے بھی لوگ آئے ہیں اور قوم پر بسنت کا جوش اور جذبہ واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بسنت کی خوشیوں میں عوام بھرپور حصہ لے رہی ہے اور یہ قومی ثقافت کے فروغ کا موقع ہے۔





