اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
ذرائع کے مطابق یہ بات چیت گزشتہ روز ہوئی، تاہم اس کے مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ وفاقی وزیر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمران خان کو ان کے بچوں سے بات کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
جیل حکام نے جاری بیان میں بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی گئی، اور یہ رابطہ تقریباً 30 منٹ تک جاری رہا۔
یاد رہے کہ عمران خان کے دونوں بیٹے قاسم اور سلیمان اس وقت لندن میں مقیم ہیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نےبھی تصدیق کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر سابق وزیراعظم کی اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات چیت کرا دی گئی ہے۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے اپنے بیٹوں سے تقریباً 20 منٹ تک گفتگو کی، طویل عرصے بعد والد کی آواز سن کر ان کے بیٹے بیحد خوش نظر آئے۔
ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں علیمہ خان نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں ان کے فوری طبی معائنے کا انتظار ہے، جہاں ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں ماہر ڈاکٹرز ان کی بینائی کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ بروقت علاج فراہم کرنے میں دانستہ تاخیر کی وجہ سے عمران خان کی بینائی کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اب علاج میں مزید کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ بینائی کے مستقل ضیاع کو روکنے کے لیے ماہر امراض چشم سے فوری رجوع کرنا اور خصوصی طبی نگہداشت فراہم کرنا اب ناگزیر ہو چکاہے۔





