چین چاہے تو یوکرین جنگ ایک دن میں ختم ہو سکتی ہے، امریکی سفیر برائے نیٹو

امریکی سفیر برائے نیٹو میتھیو وٹیکر نے کہا ہے کہ چین کے پاس روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اگر بیجنگ چاہے تو یہ جنگ ایک دن میں ختم ہو سکتی ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ چینی قیادت روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے براہِ راست رابطہ کر کے جنگ بندی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین روسی تیل اور گیس کی خریداری روک کر بھی ماسکو پر نمایاں دباؤ ڈال سکتا ہے۔

امریکی سفیر نے زور دیا کہ عالمی برادری کو جنگ کے خاتمے کے لیے چین سے سنجیدہ مذاکرات کرنا ہوں گے کیونکہ بیجنگ اس تنازع میں اثر و رسوخ رکھنے والی بڑی طاقت ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا کی ثالثی میں روس کے ساتھ ممکنہ مذاکرات مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ ڈیل ہوگی یا نہیں؟ ٹرمپ نے اپنا موقف واضح کر دیا

میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین سے تو رعایتوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے مگر روس پر ویسا دباؤ نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق روس مذاکراتی ٹیم میں تبدیلی کے ذریعے عمل کو طول دینا چاہتا ہے۔

زیلنسکی کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اثر و رسوخ موجود ہے اور وہ پیوٹن کو جنگ بندی پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی امن معاہدے پر ریفرنڈم کے انعقاد سے قبل مکمل جنگ بندی ناگزیر ہوگی۔

Scroll to Top