تحریک انصاف کی حکومت 15 رمضان گزرنے کے باوجود مستحق افراد میں رمضان سپورٹ پیکج کی امدادی رقم تقسیم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے صوبے میں 10 لاکھ 34 ہزار افراد کو فی کس 12 ہزار 500 روپے دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم محکمہ خزانہ کی جانب سے فنڈز کے اجرا کے باوجود ابھی تک رقم مستحقین تک نہیں پہنچ سکی۔
اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ سرکاری فنڈز کو تحریک انصاف کے ورکرز میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے فہرستیں منتخب اراکین اور پارٹی کے عہدیدار تیار کر رہے ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبائی کابینہ نے 11 فروری 2026 کو ’Ramzan Support for Low-Income Households, KP Perspective, 2026‘ کی منظوری دی تھی، جس کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 12 ارب 83 کروڑ روپے جاری کرنے کا فیصلہ ہوا۔ محکمہ خزانہ نے 10 ارب روپے بطور گرانٹ اِن ایڈ اور 2 ارب 83 کروڑ 19 لاکھ 74 ہزار روپے بطور سپلیمنٹری گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دی۔
وزیر اعلیٰ کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز بروقت جاری کیے گئے، اور ادائیگی میں تاخیر صرف انتظامی ڈیٹا انٹری کی سست روی کی وجہ سے ہوئی۔





