نخچیوان ایئرپورٹ پر ایرانی ڈرون گرنے سے دھواں ہی دھواں، آذربائیجان کا سخت احتجاج

نخچیوان ایئرپورٹ پر ایرانی ڈرون گرنے سے دھواں ہی دھواں، آذربائیجان کا سخت احتجاج

آذربائیجان کے خودمختار علاقے نخچیوان میں واقع نخچیوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد آذربائیجان نے ایران کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے مطابق دو ایرانی ڈرون سرحد عبور کر کے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ حکام کے مطابق ان میں سے ایک ڈرون نخچیوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب آ کر گرا جبکہ دوسرا ڈرون قریبی گاؤں میں ایک اسکول کی عمارت کے نزدیک گر کر تباہ ہوا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایئرپورٹ کے اطراف سیاہ دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ٹرمینل عمارت کے بعض حصوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں دو افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

واقعے کے بعد آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو دارالحکومت میں موجود ایرانی سفارت خانے کے سامنے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ کسی دوسرے ملک کی فضائی حدود میں ڈرون داخل کرنا اور حساس تنصیبات کے قریب گرنا بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بیان میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر اس واقعے کی وضاحت کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔

واضح رہے کہ نخچیوان آذربائیجان کا ایک اسٹریٹجک اہمیت کا حامل خودمختار خطہ ہے جو جغرافیائی طور پر مرکزی آذربائیجان سے الگ واقع ہے اور اس کی سرحدیں ایران، ترکی اور آرمینیا سے ملتی ہیں۔ اس خطے میں پیش آنے والا یہ واقعہ علاقائی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر سکتا ہے۔

تاحال ایران کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر مزید سفارتی رابطوں کا امکان ہے۔

Scroll to Top