تہران: عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایران کے 13 صحت مراکز نشانہ بنائے جا چکے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے 4 ہیلتھ ورکر شہید اور 25 زخمی ہوئے ہیں۔
عالمی ادارے کے مطابق اسرائیل نے لبنان میں بھی ایک صحت مرکز کو نشانہ بنایا جبکہ تہران میں ایک فٹ بال اسٹیڈیم بھی تباہ کر دیا گیا۔ یہ حملے مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہیں، جس سے ایران میں انسانی اور طبی سہولیات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے اصفہان میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے والے طیاروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی شہر قُم میں بیلسٹک میزائل لانچر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں توانائی کا بحران، زراعت اور صنعت متاثر ہونے کا خدشہ
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں ایران میں طبی سہولیات کی کمی شدید انسانی بحران پیدا کر سکتی ہے، اور ضرورت مند شہریوں تک علاج کی رسائی محدود ہو گئی ہے۔
ایران کی جانب سے بھی حملوں کے جواب میں فضائی دفاع اور میزائل سسٹمز کے ذریعے ردعمل جاری ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری نے فریقین سے تحمل اور انسانی نقصان سے بچاؤ کی اپیل کی ہے۔





