مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ، انڈونیشیا کی ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیشکش

انڈونیشیا نے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کو روکنے کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے ۔

غیر ملکی جریدے بلوم برگ کے مطابق انڈونیشی صدر پرابوو سوبیانتو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سرگرم ہیں اور اس مقصد کے لیے مسلم اکثریتی ممالک میں ایک اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔

تاہم، انڈونیشی صدر کو ایران بحران پر اپنی بعض پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے اندر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ عوامی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ انڈونیشیا نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت میں غیر معمولی تاخیر کی۔

ملک کی ایک بااثر مذہبی تنظیم نے حکومت سے اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اندرونی دباؤ اور 160 سے زائد علما سے ملاقات کے بعد صدر پرابوو سوبیانتو نے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق صدر نے واضح کیا ہے کہ انڈونیشیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ امن بورڈ میں صرف اس لیے شامل ہوا ہے تاکہ فلسطینیوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

انڈونیشین علما کونسل کے نائب سربراہ کے مطابق، صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ امن بورڈ ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کے اپنے اصل ہدف سے ہٹتا ہے یا اس سے فلسطینیوں کو فائدہ نہیں پہنچتا، تو وہ انڈونیشیا کو فوری طور پر اس بورڈ سے الگ کر لیں گے۔

Scroll to Top