امریکہ نے پاکستان کے حوالے سے نئی سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے ملک کو بدستور درجہ تین (Level 3) کی فہرست میں برقرار رکھا ہے اور امریکی شہریوں کو پاکستان کے سفر سے قبل مکمل غور و فکر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جاری کردہ سفری ایڈوائزری کے مطابق پاکستان میں مسلح تصادم، دہشت گردی، جرائم اور اغوا کے ممکنہ خطرات کے باعث شہریوں کو سفر سے پہلے صورتحال کا بغور جائزہ لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق پاکستان کے دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو درجہ چار (Level 4) میں رکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ امریکی شہریوں کو ان علاقوں کے سفر سے مکمل طور پر گریز کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
سفری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں شدت پسند اور دہشت گرد گروہ ماضی میں متعدد حملوں میں ملوث رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسے حملوں کا خدشہ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پیش آتے ہیں، تاہم ماضی میں بڑے شہروں کراچی اور اسلام آباد میں بھی حملے ہو چکے ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق دہشت گرد بغیر کسی پیشگی اطلاع کے حملے کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ٹرانسپورٹ کے مراکز، ہوٹل، سیاحتی مقامات، بازار اور شاپنگ سینٹرز، فوجی و سکیورٹی تنصیبات، ہوائی اڈے، ریلوے اسٹیشن، تعلیمی ادارے، ہسپتال، عبادت گاہیں اور سرکاری عمارتیں نشانہ بن سکتے ہیں۔
سفری ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی سرکاری اہلکاروں کی نقل و حرکت پر مختلف پابندیاں عائد ہیں، جن کے باعث ان کی سرگرمیاں مخصوص علاقوں تک محدود رہتی ہیں۔
واضح رہے کہ 3 مارچ 2026 کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکی محکمہ خارجہ نے لاہور اور کراچی میں موجود امریکی قونصلیٹس میں تعینات غیر ضروری سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات خطے کی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے گئے ہیں۔





