ایرانی و افغان کرنسی کی غیر قانونی تجارت ختم، پشاور میں 90 افغان تاجروں کے خلاف کریک ڈاؤن

ایرانی و افغان کرنسی کی غیر قانونی تجارت ختم، پشاور میں 90 افغان تاجروں کے خلاف کریک ڈاؤن

پشاور کی غیر قانونی کرنسی مارکیٹ میں شدید ہلچل مچ گئی ہے، جہاں ایرانی اور افغان کرنسی کی خرید و فروخت مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث 90 افغان مہاجر تاجروں کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، ان تاجروں کی تفصیلات پولیس اور ایف آئی اے کو بھجوا دی گئی ہیں، اور چوک یادگار، ہسپتال روڈ، اندر شہر خیبر بازار اور مختلف عمارتوں میں موجود ان تاجروں کے خلاف سخت ایکشن متوقع ہے۔

مزید معلومات کے مطابق، ایرانی اور افغان کرنسیوں کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی وجہ سے یہ غیر قانونی کاروبار مکمل طور پر ماند پڑنے کے آثار دکھا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 90 تاجروں میں سے بیشتر کے پاس قانونی اسناد موجود نہیں، جس کی بنیاد پر ان کے خلاف بے دخلی کے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

یہ قدم پشاور کے غیر قانونی کرنسی مارکیٹ کو کنٹرول کرنے اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اہم اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام نے عوام کو بھی خبردار کیا ہے کہ صرف قانونی اور مجاز ذرائع سے کرنسی کی خرید و فروخت کریں تاکہ کسی قسم کے نقصان یا قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top