وفاقی وزیر قانون، وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت برائے داخلہ نے آج آزادی اظہار رائے کے حوالے سے اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت تحفظ یافتہ ہے، تاہم اس کے ساتھ واضح قانونی حدود اور ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔
وفاقی وزرا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی سالمیت، قومی سیکیورٹی یا دفاع پر حملے کیے جائیں، یا دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کے حق کے استعمال کے دوران آئین اور قانون کے دائرے میں رہنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر قوم کی اخلاقیات، امن و امان اور معاشرتی ہم آہنگی کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ، ریاست اور افواج کے خلاف کسی بھی قسم کے پروپیگنڈا کی کوئی گنجائش نہیں۔
یاد رہے کہ دو سال قبل بھی ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہی موقف پیش کیا تھا، اور کہا تھا کہ آزادی اظہار رائے کے پیچھے چھپ کر پاکستان کی سلامتی اور دفاع پر وار یا دشمنی کی کوئی کوشش ناقابل قبول ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی اظہار رائے ایک ایسا حق ہے جس کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کیا جانا ضروری ہے، اور یہ کسی بھی حال میں ریاست یا افواج کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا۔
وفاقی وزرا نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ آزادی اظہار رائے کے حق کو مثبت اور تعمیری انداز میں استعمال کریں، تاکہ قومی مفاد، سلامتی اور قومی یکجہتی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سطح پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ آزادی اظہار رائے کے ساتھ قومی سلامتی اور قانون کی پاسداری بھی برقرار رہے۔





