پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ، اندرونی کہانی سامنے آگئی

پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ، اندرونی کہانی سامنے آگئی

شیراز احمد شیرازی

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی انتہائی ہنگامہ خیز اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق اجلاس اس وقت میدانِ جنگ بن گیا جب شاہد خٹک نے سینیٹر زرقا پر پیسے لینے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان کی موجودگی پر سوال اٹھایا جس پر سینیٹر زرقا نے جواب دیا کہ وہ نوٹس کا جواب دے چکی ہیں اور اگر پارٹی مطمئن نہ ہوتی تو انہیں نکال دیا جاتا۔

شاہد خٹک کے اس رویے پر بیرسٹر علی ظفر شدید برہم ہو گئے اور انہوں نے ارکان کی بے توقیری پر بائیکاٹ کی دھمکی دی جبکہ دیگر ارکانِ پارلیمنٹ بھی شاہد خٹک پر برس پڑے اور انہیں حدود میں رہنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران شاہد خٹک نے پارلیمانی کمیٹیوں میں واپسی کو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ غداری قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ کسی صورت واپس نہیں جائیں گے اور اس وقت صرف عمران خان کی فیملی اور ان کی صحت پر بات ہونی چاہیے۔

اس دوران داور کنڈی نے انہیں غیر ضروری افراد کی باتیں نہ کرنے کا مشورہ دیا تو شاہد خٹک نے جواب دیا کہ بانی کی بہنیں غیر ضروری نہیں ہیں اور وہ ان کی بات کرتے رہیں گے۔ تلخی اس قدر بڑھی کہ شاہد خٹک نے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ نہیں چل سکتے اور اگر یہی حالات رہے تو وہ پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے جس کے بعد متعدد ارکان اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

دوسری جانب جنید اکبر نے بھی پارٹی کے فیصلہ سازوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے صرف تین چار افراد ہی تمام فیصلے کرتے ہیں اور کوئی مشاورت نہیں ہوتی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے نامور وکلاء کی موجودگی کے باوجود بانی پی ٹی آئی کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا اور الزام لگایا کہ کچھ لوگ کمیٹیوں کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی کا نام استعمال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی تلخ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے تبصرہ کیا کہ ایک طرف ایران کی جنگ جاری ہے اور دوسری طرف آپ کی اپنی جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

Scroll to Top