عظیم شاعر حبیب جالب کی مداحوں سے بچھڑے 33 برس بیت گئے

عظیم عوامی اور انقلابی شاعر حبیب جالب کی وفات کو آج 33 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

حبیب جالب 24 مارچ 1928ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیارپور میں پیدا ہوئے۔ صرف 15 سال کی عمر میں انہوں نے رومانوی اور مزاحمتی شاعری کا آغاز کر دیا، جس کے بعد ان کی شاعری نے عوام میں ایک مضبوط شناخت حاصل کی۔

قیام پاکستان کے بعد حبیب جالب کراچی منتقل ہوئے اور بعد ازاں لاہور آ گئے۔ یہی وہ دور تھا جب انہوں نے معاشرتی ناانصافیوں اور ظلم و ستم کو قریب سے دیکھا، اور انہی موضوعات نے ان کی شاعری کو مزاحمتی اور احتجاجی رنگ دیا۔

حبیب جالب نے اپنی زندگی کے دوران کئی بار قید و بند کی صعوبتیں اٹھائیں، مگر کبھی بھی کسی حکمران کے سامنے جھکنے یا سمجھوتہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے نہ صرف عوام کی جدوجہد کو اپنی شاعری میں اجاگر کیا بلکہ فلمی صنعت کے لیے بھی مزاحمتی اور رومانوی گیت لکھے، جو مقبول ہوئے۔

عظیم شاعر فیض احمد فیض نے حبیب جالب کو عوامی شاعر قرار دیا، اور جالب کی شاعری ہر دور میں سچائی، انصاف اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی۔ ان کی نمایاں شعری تصانیف میں شامل ہیں: برگ آوارہ، سر مقتل، عہد ستم، ذکر بہتے خون کا، گوشے میں قفس کے،حرف حق، اس شہر خرابی، حرف سردار۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے روس کی جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کر دی، قرارداد منظور نہ ہو سکی

حبیب جالب نے اپنی زندگی سادگی اور فقیری میں گزاری، اور 12 مارچ 1993ء کو 65 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے 16 برس بعد انہیں نشان امتیاز کے اعزاز سے نوازا، تاکہ عوامی شاعر کی یادگار کو ہمیشہ زندہ رکھا جا سکے۔

حبیب جالب کی شاعری آج بھی نوجوان نسل کے لیے تحریک اور شعور کا باعث ہے، اور ان کے اشعار ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف عوامی جدوجہد کی علامت بنے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top