ایران نے اقوام متحدہ میں واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں، جنہوں نے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایران کے مندوب نے کہا کہ کسی آزاد ریاست پر حملہ کرنا اور اس کی قیادت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سکولز، رہائشی علاقے اور اہم تنصیبات نشانہ بنائی گئی ہیں، جبکہ اسرائیل کی دہشت گردی کی مثالیں غزہ میں معصوم بچوں، عورتوں اور صحت کے مراکز کو نشانہ بنانے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
ایرانی مندوب نے اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ایران کے دفاع کے حق کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ ایران نے خطے میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اپنے ملک کی حفاظت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہیں اور کوئی بھی جارح ملک اقوام متحدہ چارٹر کے تحت دوسرے ممالک کی زمین کا استعمال جارحیت کے لیے نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے 58 بحری جہاز تباہ، 31 بارودی سرنگیں ناکارہ بنائیں، ٹرمپ کا دعویٰ
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے صرف اپنے دفاع کے لیے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور یہ عمل کسی جارحیت یا توسیع پسندی کا مظہر نہیں۔
ایران کے موقف کے مطابق وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور تاحال آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا گیا، جبکہ دشمن ممالک اس کے بارے میں جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔
ایرانی مندوب کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران عالمی برادری کے سامنے اپنی پوزیشن کو واضح کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دفاعی کارروائیوں کی قانونی حیثیت کو اجاگر کر رہا ہے۔





