پشاور: حکومتِ خیبر پختونخوا یومِ پاکستان 23 مارچ 2026 کو ایک منفرد اور تاریخی شجرکاری مہم کے ذریعے منانے جا رہی ہے۔
اس مہم کے تحت پورے صوبے میں ایک ہی دن میں دس لاکھ پودے لگانے کا ریکارڈ قائم کیا جائے گا، جو نہ صرف یومِ پاکستان کی قومی اہمیت کو اجاگر کرے گا بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور سرسبز پاکستان کے خواب کو عملی شکل دینے کی ایک مؤثر کوشش بھی ہوگی۔
سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا جنید خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خصوصی ویژن سرسبز خیبر پختونخوا کے تحت یہ شجرکاری مہم صوبے بھر میں بیک وقت شروع کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن میں دس لاکھ پودے لگانے کا یہ اقدام پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد کارنامہ ہوگا، جو نہ صرف ماحولیاتی بہتری بلکہ قومی شعور کو بیدار کرنے کی بھی علامت بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ہم ریاستِ پاکستان کے ساتھ ہیں، نوجوان قانون ہاتھ میں نہ لیں, علامہ شہنشاہ نقوی
جنید خان نے کہا کہ یومِ پاکستان اس عہد کی یاد دلاتا ہے جب 23 مارچ 1940 کو قراردادِ پاکستان کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔
اسی تاریخی دن کی روح کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ خیبر پختونخوا نے اس بار اس قومی دن کو ایک سبز عہد میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آزادی کے ثمرات آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور پائیدار بن سکیں۔
سیکرٹری نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آج پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
درخت لگانا نہ صرف ماحول کے تحفظ کا ذریعہ ہے بلکہ صاف ہوا، بہتر ماحولیاتی توازن اور پائیدار ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مہم پورے ملک میں ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔
محمد جنید دیار، پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹین بلین ٹری سونامی پراجیکٹ اور 23 مارچ کی ریکارڈ شجرکاری مہم کے فوکل پرسن نے بتایا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں محکمہ جنگلات کی سرکاری نرسریوں سے پودوں کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 23 مارچ کو صبح 9 بجے باضابطہ طور پر شجرکاری کا آغاز کیا جائے گا اور یہ مہم آخری پودا لگانے تک بلا تعطل جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں : کابل میں پاک فضائیہ کی کارروائی جاری، طالبان اور دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ
انہوں نے مزید بتایا کہ شجرکاری کے اس تاریخی عمل کی شفاف نگرانی اور مکمل ریکارڈ کے لیے ایک خصوصی سافٹ ویئر اپلیکیشن اور مرکزی کنٹرول سینٹر میں جدید ڈیش بورڈ کا انتظام کیا گیا ہے۔
اس نظام کے ذریعے پودوں کی ترسیل، شجرکاری کے مقامات اور پودے لگانے کے تمام مراحل کی تفصیلات موبائل فون کے ذریعے مرکزی سینٹر کو تصاویر اور لائیو ویڈیو کے ساتھ بھیجی جائیں گی۔ دور افتادہ علاقوں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے، وہاں آف لائن ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
محمد جنید دیار نے بتایا کہ اس ریکارڈ شجرکاری مہم میں سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں، ضلعی انتظامیہ، موٹروے پولیس، پاکستان ریلوے، مقامی کمیونٹیز اور افواجِ پاکستان سمیت معاشرے کے تمام طبقات بھرپور انداز میں شرکت کریں گے، تاکہ یہ قومی مہم عوامی شراکت داری کی ایک روشن مثال بن سکے۔
حکومتِ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ اگر ہر شہری ایک درخت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس کی حفاظت کرے تو یہ پودے آنے والے برسوں میں ایک سرسبز، خوشحال اور ماحولیاتی طور پر محفوظ پاکستان کی بنیاد بنیں گے۔





