پاکستان تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کسی ایک خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے تاہم ڈسپلن کے بغیر یہی قوت کمزوری میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی سے 8 فروری تک کے مشکل حالات میں صرف جرات مند اور بااصول لوگ ہی ڈٹ کر کھڑے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو اس وقت اندرونی مسائل کا سامنا ہے لیکن کارکنوں اور قیادت کی نیت پر انہیں کوئی شک نہیں۔
تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کیس کی تحقیقات نگران دور حکومت میں کی گئیں، جن میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، کامران بنگش اور ان کا نام بھی شامل کیا گیا، حالانکہ ان کے مطابق یہ تحقیقات درست نہیں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات مشکل ضرور ہیں اور پارٹی کے اندر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں، لیکن عمران خان نے ملک کے لیے جو مؤقف اپنایا ہے اسے کوئی نہیں بھول سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ عمران خان جلد رہا ہوں گے۔
علی امین گنڈاپور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ جب ان کے بارے میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بات کی تو انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑا، تاہم پارٹی کے اندر اختلافات نے پی ٹی آئی کو کمزور کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزد
انہوں نے مزید کہا کہ جب شہباز شریف نے پہلی مرتبہ صحت کارڈ کا منصوبہ دیکھا تو انہوں نے باقاعدہ میٹنگ بلائی۔ جھگڑا کے مطابق پریزنٹیشن کے دوران شہباز شریف اپنی نشست سے کھڑے ہو کر اسکرین کے قریب چلے گئے اور حیران ہو کر کہا کہ یہ چیز مجھ سے کیسے رہ گئی۔





