اسلام آباد: پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے سامنے اپنے تین اہم مطالبات پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو 27 مارچ سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کیے جا سکتے ہیں۔
سینئر وائس چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز طارق حسن نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ڈیلرز کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شامل کیے گئے 55 روپے فی لیٹر اضافے کا باقاعدہ آڈٹ کرایا جائے۔
دوسرا مطالبہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کردار کی تحقیقات سے متعلق ہے، جبکہ تیسری درخواست یہ ہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن بڑھا کر 8 فیصد کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ پیٹرولیم کی جانب سے پہلے مارجن میں اضافے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم اب تک اس پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں،پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا خدشہ
ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 12 سے 14 ہزار پیٹرول پمپس کام کر رہے ہیں اور ڈیلرز باقاعدگی سے ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مقامی سرمایہ کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے جبکہ مقامی کاروباری طبقہ مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔
طارق حسن کے مطابق اوگرا نے گزشتہ سال پیٹرول پمپ مالکان کے مارجن میں 1 روپے 68 پیسے فی لیٹر اضافے کی سمری حکومت کو بھجوائی تھی، تاہم وزیراعظم نے اس تجویز کو ڈیجیٹائزیشن کی شرط عائد کرتے ہوئے منظور نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قیمتوں کے مطابق ڈیلرز کا مارجن صرف 2.59 فیصد یعنی تقریباً 8 روپے 64 پیسے فی لیٹر بنتا ہے، جو ان کے بقول ناکافی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں 42 آئل مارکیٹنگ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے کئی کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو ڈیلرز کا مارجن مزید کم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعظم کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ
پیٹرولیم ڈیلرز کے رہنما کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور لیوی میں اضافہ ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے 55 روپے فی لیٹر اضافے میں سے 21 روپے لیوی کی مد میں وصول کیے ہیں، جبکہ باقی رقم کے بارے میں وضاحت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ڈیلرز کو مناسب مقدار میں پیٹرول فراہم نہیں کر رہیں جس کے باعث کئی پیٹرول پمپس پر سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور کچھ پمپس خشک ہونے کے قریب ہیں۔
طارق حسن کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزی کے معاملے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔





