ایران کسی صورت مسلم ممالک، خصوصاً سعودی عرب کو نشانہ نہ بنائے، رانا ثنا

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی قیادت مسلم ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے کی صورتحال پر قریبی مشاورت جاری ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی حال ہی میں ایرانی صدر سے بھی بات چیت ہوئی ہے اور اسی سلسلے میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا گیا۔

ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود ہے اور پاکستان اس معاہدے کی پاسداری کرتا ہے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ امید ہے سعودی قیادت اور ایرانی صدر کے درمیان ہونے والی حالیہ گفتگو کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اس صورتحال میں دانشمندانہ پالیسی اختیار کی ہے اور فوری ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت میں مسلم ممالک، بالخصوص سعودی عرب کو نشانہ نہ بنائے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہ سکے۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسے کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی ترجیح صرف یہ ہے کہ اپنے ملک کو نقصان سے محفوظ رکھا جائے اور سرحدی صورتحال پر امن رہے۔

گورنر سندھ کی تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ بلوچستان اور سندھ کے گورنرز کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ کبھی یہ وعدہ نہیں کیا گیا تھا کہ سندھ کا گورنر ان کی جماعت سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : عوام کیلئے بری خبر، پیٹرولیم ڈیلرز کا پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان

رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ کامران ٹیسوری نگران حکومت کے دور سے گورنر کے عہدے پر فائز تھے، اس لیے فوری طور پر ان کی تبدیلی ضروری نہیں سمجھی گئی۔

چونکہ اس دوران معاملات معمول کے مطابق چل رہے تھے اس لیے انہیں برقرار رکھا گیا، تاہم بعد میں ایسی صورتحال پیدا ہوئی جس کے باعث گورنر سندھ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

مشیر وزیراعظم کے مطابق کامران ٹیسوری کی تعیناتی نگران سیٹ اپ کے دوران ہوئی تھی اور اس حوالے سے اس وقت کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بہتر طور پر بتا سکتے ہیں کہ ان کی تقرری کس کی سفارش پر کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گورنر کی تبدیلی کے معاملے پر ایم کیو ایم کے ساتھ باقاعدہ اور مہذب انداز میں مشاورت کی جاتی رہی ہے۔

Scroll to Top