پاکستان کو ایران کو باور کرانا ہوگا کہ بلاوجہ عرب ممالک سے دشمنی نہ کرے، حسین حقانی

اسلام آباد: سابق پاکستانی سفیر برائے امریکہ حسین حقانی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ خطے کی صورتحال میں پاکستان کو ایران پر اثر انداز ہونے کی بھرپور کوشش کرنی ہوگی تاکہ وہ عرب ممالک کے خلاف اپنی فوجی یا سیاسی کارروائیاں روک دے۔

ان کے مطابق اگر پاکستان اس معاملے میں ناکام رہا تو اسے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، جو پاکستان کے لیے ایک نہایت حساس اور پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان کی بہتر حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ ایران کو باور کرایا جائے کہ پاکستان کے ساتھ بلاوجہ تناؤ پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران کو عرب ممالک کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام سے گریز کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن اور اعتماد قائم رہے۔

سابق سفیر نے اپنی رائے میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کو زیادہ نقصان ہوگا۔ اگرچہ جنگ ختم بھی ہو جائے تو عرب ممالک کے دلوں میں یہ بات ہمیشہ رہ جائے گی کہ ایران نے ان پر حملہ کیا، حالانکہ ان ممالک نے ایران پر کسی قسم کا حملہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی حملہ آور کا ساتھ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کسی صورت مسلم ممالک، خصوصاً سعودی عرب کو نشانہ نہ بنائے، رانا ثنا

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کا مقصد صرف یہ پیغام دینا ہے کہ عرب ممالک اس کے میزائلوں کی رینج میں ہیں اور وہ انہیں نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ امریکہ پر دباؤ ڈال سکے کہ جنگ ختم کی جائے۔

حسین حقانی نے مزید کہا کہ اس طرز عمل سے عرب ممالک کے دلوں میں بداعتمادی اور ناراضی پیدا ہو جائے گی، جو خطے کے امن اور بہتر تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں مستحکم تعلقات اور اعتماد قائم رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنی سفارتی کوششیں تیز کرنی ہوں گی تاکہ ایران کی کارروائیوں کو روک کر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔

Scroll to Top