متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے من گھڑت ویڈیوز نشر کرنے کے الزام میں 10 ملزمان کی گرفتاری کا حکم جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق، اس مواد میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کی حقیقی ویڈیوز شامل تھیں، تاہم ان میں من گھڑت مناظرات بھی شامل تھے جن کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں، جس سے عوام میں بے چینی اور افواہیں پھیلنے کا خدشہ تھا۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ مواد میں کئی ایسی من گھڑت ویڈیوز شامل تھیں جو نہ صرف دفاعی کارروائیوں کو غلط رنگ میں پیش کر رہی تھیں، بلکہ ان ویڈیوز کے ذریعے دشمنوں کے خلاف کامیابیوں کو بھی کمزور دکھایا جا رہا تھا۔
ایمریٹس حکام نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس قسم کی ویڈیوز کے نشر ہونے سے معاشرے میں غیر ضروری کشیدگی اور خوف کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے، جس سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ اس لیے اٹارنی جنرل کی ہدایت پر فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور ملزمان کی شناخت کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
سیکیورٹی حکام نے ان ویڈیوز کو گمراہ کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں شامل مناظرات اور معلومات کو حکومتی دفاعی پالیسیوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا۔ حکام نے مزید بتایا کہ اس کے پیچھے موجود افراد کو گرفتار کرنے کا مقصد معاشرتی اور قومی سطح پر انتشار پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
اس واقعے نے نہ صرف ملکی سکیورٹی اداروں بلکہ عوام میں بھی تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے جھوٹے اور گمراہ کن مواد سے بچیں اور صرف معتبر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر بھروسہ کریں۔ ان اقدامات کے ذریعے حکام کا مقصد امن و امان کو برقرار رکھنا اور ملک میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
مزید برآں، عدالت میں پیش ہونے والے ملزمان کے خلاف جلد سماعت کی جائے گی تاکہ ان کے جرم کی نوعیت اور پھیلائے گئے مواد کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکام نے اس عمل کے ذریعے قومی سلامتی اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔





