محکمہ موسمیات نے عید الفطر کے چاند کے حوالے سے ابتدائی سائنسی پیشگوئی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل ہونے کا امکان زیادہ ہے اور عید الفطر 21 مارچ کو منائی جا سکتی ہے۔ تاہم حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیر کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 19 مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں اور سائنسی معلومات کی بنیاد پر عید کے چاند کا فیصلہ کیا جائے گا۔
انجم نذیر نے وضاحت کی کہ سائنسی حساب کے مطابق 19 مارچ کو چاند نظر آنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ چاند پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 23 منٹ پر پیدا ہوگا۔ غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر صرف 12 گھنٹے اور چند منٹ ہوگی، جب کہ فلکیاتی اصولوں کے مطابق چاند کی نظر آنے کی عمر کم از کم 14 گھنٹے ہونی چاہیے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ 12 گھنٹے کی عمر والا چاند نہ عام آنکھ سے دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی جدید دوربین کے ذریعے، کیونکہ اس کی افق پر بلندی اور روشنی انتہائی کم ہوتی ہے۔ اس لیے 19 مارچ کو چاند نظر نہ آنے کی صورت میں رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے اور عید الفطر 21 مارچ بروز ہفتہ منائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ چاند کے حوالے سے کسی بھی خبر یا اعلان پر صرف مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے باضابطہ اعلان پر ہی اعتماد کریں۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ چاند کے نظر آنے کے امکانات موسم، افق پر بلندی اور بادلوں کی موجودگی جیسے عوامل پر منحصر ہوتے ہیں۔ محکمہ موسمیات، سپارکو اور دیگر سائنسی ادارے ہر سال شہادتوں اور رپورٹس کی بنیاد پر رویت ہلال کمیٹی کو معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ عید کا فیصلہ درست طریقے سے کیا جا سکے۔





