خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد کل ختم ہو جائے گا۔ چار سال تک قائم رہنے والا موجودہ بلدیاتی نظام فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث عوامی مسائل حل کرنے میں خاطر خواہ کردار ادا نہ کر سکا اور بیشتر علاقوں میں ترقیاتی کام شروع ہی نہ ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے مناسب فنڈز فراہم نہیں کیے گئے جس کے باعث چار سال کے دوران ایک روپے کا بھی بڑا ترقیاتی منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ فنڈز کی کمی کے خلاف بلدیاتی نمائندوں نے متعدد بار احتجاج بھی کیا اور کئی مواقع پر سڑکوں پر بیٹھ کر اپنے مطالبات پیش کیے۔
اس دوران کیپٹل میٹروپولیٹن پشاور میں انتظامی عدم استحکام بھی دیکھنے میں آیا، جہاں چار سال کے عرصے میں تین ڈائریکٹر جنرل تبدیل کیے گئے۔ اس کے علاوہ میئر اور بلدیاتی افسران کے درمیان اختیارات اور امورِ انتظامیہ کے حوالے سے اختلافات بھی سامنے آتے رہے، جس کے باعث بلدیاتی نظام کی کارکردگی مزید متاثر ہوئی۔
بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ بھی آخری دن تک برقرار رہا اور کئی ملازمین کو بروقت ادائیگی نہ ہونے کی شکایات سامنے آتی رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی نظام کے تحلیل ہونے کے بعد انتظامی اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو منتقل کر دیے جائیں گے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت نے مقامی حکومتوں کے نظام میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے قائم پارلیمانی کمیٹی نے حال ہی میں اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کی ہے جس میں بلدیاتی نظام میں توسیع کو آئین اور قانون کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بلدیاتی نظام کے خاتمے کے بعد نئے بلدیاتی انتخابات تقریباً تین ماہ کے اندر متوقع ہیں، جن کے لیے نیا انتخابی شیڈول جاری کیا جائے گا تاکہ صوبے میں دوبارہ مقامی حکومتوں کا نظام فعال ہو سکے۔





