کامران علی شاہ
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان سکینڈل میں نامزد 5 ملزمان اور 2 بے نامی داروں سمیت ایک سرکاری ملازم کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات کی توثیق کر دی ہے۔
احتساب جج حامد مغل نے نیب کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ڈی جی نیب کے 24 فروری کے احکامات کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ملزمان محمد ایاز، دوراج خان، محبوب الرحمان، طاہر تنویر اور ظہور احمد کے نام پر کروڑوں روپے کے غیر منقولہ اثاثے سامنے آئے ہیں۔
ان کے علاوہ بے نامی دار عاطف اقبال اور یاسر تنویر سمیت ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس اپر کوہستان کے ملازم ضمیر مراد کے اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم ظہور احمد کی بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور سرکاری ملازم ضمیر مراد کی ڈی ایچ اے میں دکانیں ملی ہیں، جبکہ دیگر ملزمان اور بے نامی داروں کے ایبٹ آباد کے مختلف علاقوں میں قیمتی پلاٹس موجود ہیں۔
ملزمان میں شامل ظہور اور یاسر تنویر بینک ملازم، دوراج ٹھیکیدار اور محبوب رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ عدالت نے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے تمام اثاثے منجمد کرنے کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے





