امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران ایک بڑا دھچکا لگا ہے جہاں اہم اتحادیوں کی سرد مہری کے بعد اب اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔
امریکا کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف جنگ کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں جو کینٹ نے واضح کیا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے نزدیک ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا بلکہ یہ جنگ اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجے گئے اپنے استعفیٰ میں جو کینٹ نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام نے امریکا کو اس تنازع میں دھکیلنے کے لیے غلط معلومات پر مبنی مہم چلائی اور اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا نیٹو اتحادیوں سے شکوہ، ایران جنگ میں تنہا چھوڑنے پرسخت ردعمل
انہوں نے موجودہ صورتحال کا موازنہ ماضی سے کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل اور فوری کامیابی کے بلند بانگ دعوے انہیں 2003 کی عراق جنگ سے قبل کی صورتحال کی یاد دلاتے ہیں۔
جو کینٹ خود بھی عراق جنگ کا حصہ رہ چکے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ شینن کینٹ شام میں ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئی تھیں۔
جو کینٹ نے اپنے جذباتی بیان میں لکھا کہ ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے 11 مرتبہ جنگی خدمات انجام دیں اور اپنی اہلیہ کو اس جنگ میں کھویا جو ان کے بقول اسرائیل کی شروع کردہ تھی وہ اب نئی نسل کو ایسی کسی مہم جوئی کا حصہ بنتے نہیں دیکھ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسی جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے جو امریکی عوام کے مفاد میں نہ ہو اور جس کی بھاری قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔





