کیا پاکستان کی معیشت مستحکم ہے؟ وزارت خزانہ نے تفصیلات بتا دیں

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس مارچ اور اپریل کے لیے تیل کے کافی ذخائر موجود ہیں جو ملک میں توانائی کے استحکام کو یقینی بناتے ہیں۔

وزارت نے معیشت کے حوالے سے بھی مثبت اشارے دیے ہیں اور فروری کے اقتصادی اعداد و شمار خوش آئند قرار دیے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 427 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو ملکی معیشت کے استحکام کی طرف واضح اشارہ ہے۔

اس کے علاوہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 24 فیصد اضافہ ہوا جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ عوامل ملکی معیشت میں استحکام اور مضبوطی لانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

مزید برآں فروری میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں یہ تقریباً 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کا بھی ثبوت ہے۔

وزارت خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ ملک کے فارن ایکسچینج کے ذخائر چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جو پاکستانی کرنسی اور مالیاتی استحکام کے لیے خوش آئند ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 23 مارچ 2026: یومِ پاکستان پریڈ نہیں ہوگی، صدر مملکت نے منظوری دے دی

اسی دوران ملکی بڑی صنعتوں کی ترقی بھی جاری ہے، جنوری میں 12 فیصد اور فروری میں 11 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جو صنعتی شعبے میں اعتماد اور مثبت رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کی معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے اور توانائی، سرمایہ کاری، ترسیلات زر، آئی ٹی اور صنعتی شعبوں میں استحکام کے ساتھ ترقی کر رہی ہے۔

Scroll to Top