ایران نے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر دی

ایران: ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت ایرانی میڈیا اور ان کے ایکس اکاؤنٹ پر بھی تصدیق ہو گئی ہے۔ ایرانی نیم سرکاری ایجنسی مہر نیوز کے مطابق ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ان کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق علی لاریجانی کو گزشتہ رات ان کے سیف ہاؤس پر کیے گئے حملے میں شہید کر دیا گیا۔ ان کے ایکس اکاؤنٹ پر بھی پوسٹ کی گئی کہ خدا کی بندہ خدا کو پیارے ہوگئے، اور ان کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی کی بھی شہادت کی اطلاع دی گئی۔

علی لاریجانی ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں ایک نمایاں مقام رکھنے والے رہنما تھے۔ وہ بے خوف اور عوامی مقامات پر بھی کھلے عام نظر آنے والے رہنما تھے، یہاں تک کہ یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں افراد کے درمیان بھی بغیر خوف کے شریک ہوئے۔ اسرائیل اور امریکہ نے انہیں ہٹ لسٹ میں شامل کیا تھا، لیکن وہ عوامی سطح پر سرگرم رہتے تھے۔

علی لاریجانی کا طویل سیاسی کیریئر انتہائی شاندار رہا۔ وہ وزیر ثقافت، سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کے عہدوں پر فائز رہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کشیدگی: ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا دھچکا، پہلا بڑا استعفیٰ آگیا

2005 سے 2007 کے دوران انہوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور 2015 کے جوہری معاہدے کی حمایت کی۔

2025 میں انہیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا، جس کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران میں قیادت کی مرکزی شخصیت بنے۔

علی لاریجانی کا خاندان بھی ایرانی سیاست میں اہمیت رکھتا ہے، ان کے بھائی صادق لاریجانی موجودہ وقت میں مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں، جو ایران کے اہم سیاسی اداروں میں فیصلہ سازی کے اختیارات رکھتے ہیں۔

یہ واقعہ ایران کے داخلی سیکیورٹی نظام اور سیاسی ماحول کے لیے سنگین دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں اس کے اثرات بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Scroll to Top