طبی ماہرین نے حالیہ تحقیق میں عام دستیاب درد کش ادویات (Painkillers) کے بے جا اور غیر ضروری استعمال کے حوالے سے سنگین انتباہ جاری کیا ہے، جس نے طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
تحقیق کے مطابق وہ ادویات جو لوگ معمولی سر درد، جوڑوں کے درد یا بخار کے لیے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال کرتے ہیں، انسانی جسم کے اہم اعضاء کے لیے خاموش قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ادویات کا مسلسل استعمال نہ صرف گردوں اور جگر کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ دل کے دورے (Heart Attack) کے خطرات میں بھی کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔
درد کش ادویات کا سب سے بڑا نقصان معدے کی اندرونی جھلی پر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں السر اور اندرونی خون بہنے (Internal Bleeding) جیسے جان لیوا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان ادویات کے استعمال سے بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ بھی ممکن ہے جو فالج (Stroke) کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بہت سے مریض جو گردوں کے دائمی امراض میں مبتلا ہیں، ان میں بیماری کی بنیادی وجہ برسوں سے بلاوجہ لی جانے والی عام درد کش ادویات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا: قیدیوں نے اعلیٰ حکام سے نوٹس کا مطالبہ کر دیا
طبی ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ معمولی درد یا تکلیف کی صورت میں فوری طور پر دوا لینے کے بجائے آرام، پانی کی وافر مقدار اور قدرتی طریقے استعمال کیے جائیں۔
کسی بھی قسم کی درد کش دوا کا استعمال صرف اور صرف مستند ڈاکٹر کی ہدایت اور تجویز کردہ مقدار کے مطابق کیا جانا چاہیے تاکہ مہلک اثرات سے بچا جا سکے۔
اس انکشاف کے بعد عالمی ادارہ صحت (WHO) اور مقامی طبی تنظیموں نے ادویات کی بلاجواز فروخت اور غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے نئی گائیڈ لائنز تیار کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، تاکہ عوام کی صحت کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔





