عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں کیوں نہیں بڑھیں؟ سرمایہ کار بھی حیران

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں کیوں نہیں بڑھیں؟ سرمایہ کار بھی حیران

ایران کے خلاف جاری جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں وہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی، جسے ماہرین ایک غیر معمولی صورتحال قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر مشیر ابراہیم جباری نے 2 مارچ کو آبنائے ہرمز بند کرنے کا عندیہ دیا، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ اس دوران عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی، تاہم سونا نسبتاً مستحکم رہا۔

عرب میڈیا کے مطابق منگل کے روز اسپاٹ گولڈ تقریباً 5,001 ڈالر فی اونس پر برقرار رہا، جبکہ امریکی فیوچر گولڈ کی قیمت معمولی اضافے کے ساتھ 5,005 ڈالر فی اونس تک پہنچی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر جنگ، معاشی بحران یا عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس کی قیمتوں میں تیزی آتی ہے۔ مثال کے طور پر روس-یوکرین جنگ کے آغاز پر سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

تاہم موجودہ صورتحال میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کی چند اہم وجوہات سامنے آئی ہیں، جن میں امریکی ڈالر کی مضبوطی، سونے کی پہلے سے بلند سطح، مارکیٹ میں زیادہ اتار چڑھاؤ اور شرحِ سود میں اضافے کا خدشہ شامل ہیں۔

ماہرِ اقتصادیات ریمی بوریو کے مطابق اس وقت سونے کو پہلے کی طرح مکمل محفوظ اثاثہ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے زیادہ تر قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی دو صورتوں میں ممکن ہے: اگر امریکی فیڈرل ریزرو شرحِ سود میں کمی کا واضح اشارہ دے یا ایران سے متعلق کشیدگی طویل ہو کر عالمی معاشی خطرات میں مزید اضافہ کر دے۔

Scroll to Top