خیبر پختونخوا حکومت نے بلدیاتی نظام کو مزید مؤثر اور مربوط بنانے کے لیے مروجہ قوانین میں ترامیم کا فیصلہ کرتے ہوئے باقاعدہ مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے سے قائم وزارتی اور پارلیمانی کمیٹیاں متحرک ہو چکی ہیں اور مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کے مطابق حکومت ایک ایسا بلدیاتی نظام متعارف کرانے کی خواہاں ہے جو صوبائی حکومت اور اسمبلی کے ساتھ متصادم نہ ہو، بلکہ تمام اداروں کے درمیان اختیارات کا واضح تعین کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترامیم کے ذریعے ہر ادارے کا دائرہ اختیار واضح کیا جائے گا تاکہ نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔
وزیر بلدیات نے مزید بتایا کہ بلدیاتی قوانین میں ترامیم کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور عید الفطر کے بعد ایک جامع اور مکمل خاکہ سامنے لایا جائے گا، جس میں بلدیاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم شقیں شامل ہوں گی۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ، الیکشنز اور دیہی ترقی کے اجلاس میں بھی بلدیاتی نظام کی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے اور جاری ترقیاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔





