جنگ رکوانےکیلئے سفارتی کوششیں، امریکی صدر اور فیلڈ مارشل کی بات چیت کی تصدیق

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ حساس سفارتی بات چیت کی ہے تاکہ جنگ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ یہ بات چیت حساس نوعیت کی ہے اور امریکا اس معاملے پر میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت تک کسی بھی قیاس آرائی کو حتمی سمجھنا درست نہیں جب تک باضابطہ اعلان نہیں کیا جاتا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے متعلقہ حکام کو ایران اور امریکا کے ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور وفاقی وزراء نے شرکت کی، اور مذاکرات کی ممکنہ میزبانی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر فریقین کی رضامندی حاصل ہوئی تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنا خوش آئند ہے اور یہ ملک کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کرے گا۔

پاکستان کی یہ کوششیں خطے میں امن قائم رکھنے اور ممکنہ تنازعات کو روکنے میں ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہیں، جبکہ عالمی مبصرین اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کے دوران پاکستان کی ثالثی کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

Scroll to Top